مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام کے تمام قانونی حقوق کو عالمی قوانین کے دائرے میں تسلیم کیا جانا چاہیے اور اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جائز حقوق سے بڑھ کر کسی چیز کا مطالبہ نہیں کر رہا۔
تفصیلات کے مطابق، صدر پزشکیان نے تہران میں قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کے دوران کہا کہ حالیہ واقعات کے باوجود ایران اور قطر دو دوست اور برادر ممالک کی حیثیت سے اپنے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل خطے میں امن و استحکام کے قیام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حالیہ جنگ کے باعث ایران اور قطر کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد اور دوطرفہ تعاون کے فروغ میں تاخیر ہوئی۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ صہیونی حکومت کا منصوبہ مسلمانوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے قیام کو روکنا ہے۔ انہوں نے قطر کی حکومت اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا امن و سکون کے قیام کے لیے ثالثی کی کوششوں کی قدردانی کی۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ تہران جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی کشیدگی کو بڑھانا چاہتا ہے۔ ایران پر جنگ مسلط کی گئی اور اس کا جاری رہنا ایران، خطے اور پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے بعض حلقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر معاہدوں اور امن کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی حکام پر زور دیا کہ وہ ان آوازوں کو نظر انداز کریں جو خطے میں امن کی واپسی کو روکنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کے مفادات جنگ کے تسلسل میں ہیں، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا یقین ہے کہ امن اور سلامتی ایران، خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے ایران پر امریکی حملوں کو عالمی قوانین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے بلاجواز ایران کے سپریم لیڈر، کمانڈروں، طلبہ اور عوام کو نشانہ بنایا، جو کسی بھی بین الاقوامی قانونی معیار کے تحت قابل قبول نہیں۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ دوسرے فریق کو ہر شعبے میں ایرانی عوام کے تمام حقوق کو عالمی قوانین کے مطابق تسلیم کرنا ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قانونی حقوق سے زیادہ کچھ نہیں چاہتا۔
ملاقات کے دوران قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا کہ قطر خطے میں استحکام کی بحالی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا اور ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط اور امن و سلامتی کے فروغ کی کوششوں کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے ایران کو قطر کا مخلص برادر قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت اور دھمکیوں کی زبان مسائل کا حل نہیں ہے۔
شیخ محمد نے کہا کہ سفارت کاری، عقلمندی اور منطق کے ذریعے خطے میں استحکام، سلامتی اور اقتصادی سکون بحال کرنا ہوگا۔
قطری وزیراعظم نے مزید کہا کہ قطر یہ نہیں چاہتا کہ ایرانی عوام مشکلات کا سامنا کریں اور خطے کے دیگر ممالک صرف صورتحال کو دیکھتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر ایرانی عوام کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کے لیے ممکنہ ہر تعاون فراہم کرے گا۔
شیخ محمد نے ایران کے ساتھ خصوصاً بجلی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے قطر کی آمادگی کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود مفاہمتوں پر عمل درآمد اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے بات چیت جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ